مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ملک میں جاری احتجاج میں شدت کے پیش نظر تازہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے گزشتہ روز ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ اجلاس میں فرانس کے وزیراعظم اور وزیر برائے قومی تعلیم بھی شرکت کریں گے۔
فرانسیسی وزیراعظم نے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے ردعمل میں دعوی کیا کہ مظاہرین کو دبانے کے لیے کوئی سیاسی ہدایت جاری نہیں کی گئی۔ انہوں نے فرانسیسی پولیس کی جانب سے طلبہ کے ساتھ مبینہ سخت رویے کا حوالہ دیے بغیر کہا کہ بعض واقعات پیش آسکتے ہیں، تاہم یہ منظم نہیں ہیں۔
فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق منگل کو ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں ملک بھر میں 2 لاکھ 56 ہزار جبکہ دارالحکومت پیرس میں 56 ہزار افراد نے شرکت کی۔ ان مظاہروں کے دوران 488 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ پولیس اور سکیورٹی فورسز کے 43 اہلکار زخمی ہوئے۔
یہ احتجاج ایک ایسی تحریک کے تحت جاری ہیں جس کی قیادت ہائی اسکول کے طلباء کر رہے ہیں۔
دوسری جانب احتجاج کے منتظمین نے ملک بھر میں مظاہرین کی تعداد 4 لاکھ 50 ہزار جبکہ پیرس میں 1 لاکھ افراد بتائی ہے۔
آپ کا تبصرہ